عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق سپاہ پاسداران کی قدس کور (سپاہ قدس) کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل الحاج اسماعیل قاآنی جو ماہرین قیادت اسمبلی (مجلس خبرگان) کے گیارہویں اجلاس کے مہمان کے طور پر، حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ماہ شعبان المعظم کی آمد اور اس مہینے کی عیدوں کے سلسلے میں، مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا: الحمد للہ اسلامی انقلاب کے عروج اور فروغ کا سفر - جرائم پیشہ امریکہ اور جعلی یہودی ریاست اسرائیل کی سرکردگی میں دشمنان اسلام کی تمام تر دشمنیوں کے باوجود - پوری طاقت سے جاری و ساری ہے اور پوری دنیا پر بھی اور خطے پر بھی اپنے مثبت اثرات مرتب کر رہا ہے اور یہ کامیابیاں نور ولایت کی روشنی میں ہونے والی منصوبہ بندیوں اور جانفشانیوں کا ثمرہ ہے۔
جنرل قاآنی نے خطے میں 7000 ارب ڈالر کے لاحاصل اخراجات پر مبنی سابقہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعترافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکی کہتے ہیں کہ انھوں نے افغانستان میں وسیع سرمایہ خرچ کیا مگر کم از کم 7000 امریکی اس جنگ میں مارے گئے، یقینا جو چیز افغانستان میں امریکیوں کی مسلمہ شکست کا سبب بنی وہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی انقلاب کی تعلیمات سے عبارت ہے۔
انھوں نے کہا: امریکہ نے خطے کے کچھ ممالک کے قریبی تعاون سے سابقہ حکمت عملی بدلنے کا فیصلہ کیا اور داعش جیسے خطرناک گروپ کو تشکیل دیا؛ یقینا داعش محاذ مزاحمت کی ایک جعلی فوٹو کاپی تھی؛ اس میں یہ صلاحیت تھی کہ خطے کے حالات کو امریکی مفاد میں بدل ڈالتی لیکن جنرل شہید الحاج قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں نے - جو کہ مقاومت (مزاحمت) کی خالص تعلیمات و ثقافت کا عُصارہ تھے - اپنی محنت و مجاہدت سے اس خطرناک سازش کو ناکام بنایا۔
قدس کور کے کمانڈر نے کہا: امریکیوں نے شہید کمانڈر جنرل شہید الحاج قاسم سلیمانی کو مجرمانہ دہشت گردی کا نشانہ بنایا اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کر لی، یہ اسلامی انقلاب کے بعد امریکی اقدامات کے نئے مرحلے کا آغاز تھا، اور یہ مرحلہ ایک ترکیبی اور ابلاغیاتی جنگ (Hybrid and media warfare) پر مشتمل تھا، جو بدستور جاری ہے۔
جنرل قاآنی نے مزید کہا: مقاومت کی ثقافت - جو کہ اسلام کے خالص اور بنیادی مفاہیم اور تعلیمات سے جنم لیتی ہے - عالمی سطح پر تسلط پسند طاقتوں کو بے بس کر چکی ہے، اور دلچسپ امر یہ ہے کہ حتی امریکی عسکری نظریہ ساز بھی - اپنے سابقہ خیالات کے برعکس - آج یقین سے کہہ رہے ہیں کہ آج کی جنگوں کے فاتحین وہ لوگ نہیں ہیں جن کے پاس زیادہ سے زیادہ اور جدید سے جدید تر اسلحہ ہے، بلکہ فاتحین وہ لوگ ہیں جو جہادی عزم و ہمت کے ساتھ اپنے موقف اور اعتقادات پر جم کر کھڑے رہتے ہیں۔
جنرل الحاج اسماعیل قاآنی نے کہا: امید و رجا اسلامی انقلاب کے بطن میں مضمر ہے، اور اسلامی انقلاب کی ثقافت جہاں بھی پہنچتی ہے، اس علاقے میں عزت و عظمت کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
110